مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
مَا جَاءَ فِي الْكَلَالَةِ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کلالہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے “
عَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : نَزَلَتْ آيَةُ الْكَلَالَةِ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي مَسِيرٍ لَهُ ، فَوَقَفَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَإِذَا هُوَ بِحُذَيْفَةَ ، وَإِذَا رَأْسُ نَاقَةِ حُذَيْفَةَ عِنْدَ مُؤْتَزَرِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقَّاهَا إِيَّاهُ ، فَنَظَرَ حُذَيْفَةُ فَإِذَا عُمَرُ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - فَلَقَّاهَا إِيَّاهُ ، فَلَمَّا كَانَ فِي خِلَافَةِ عُمَرَ - رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَيْهِ - نَظَرَ عُمَرُ فِي الْكَلَالَةِ ، فَدَعَا حُذَيْفَةَ فَسَأَلَهُ عَنْهَا ، فَقَالَ حُذَيْفَةُ : لَقَدْ لَقَّانِيهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَقَّيْتُكَ كَمَا لَقَّانِي ، وَاللَّهِ إِنِّي لَصَادِقٌ ، وَوَاللَّهِ لَا أَزِيدُكَ عَلَى ذَلِكَ شَيْئًا أَبَدًا . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر کلالہ کے حکم سے متعلق آیات نازل ہوئیں آپ رک گئے آپ کے سامنے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ آئے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی اونٹنی کا سر ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر کے قریب تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو سکھائی سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے دیکھا ، تو انہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نظر آئے انہوں نے وہ آیت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سکھا دی جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا عہد خلافت آیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کلالہ کے مسئلہ کا جائزہ لیا تو انہوں نے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور ان سے اس کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ آیت سکھائی تھی اور جس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سکھائی تھی اسی طرح میں نے تمہیں سکھا دی اللہ کی قسم ! میں سچا ہوں اور اللہ کی قسم ! میں اس میں کسی چیز کا اضافہ نہیں کروں گا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال میں البتہ ابوعبیدہ بن حذیفہ کا معاملہ مختلف ہے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے ۔