مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “
وَعَنْ حَيَّانَ بْنِ بِسْطَامٍ قَالَ : كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ ، فَمَرَّ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَهُوَ مَصْلُوبٌ فَقَالَ : رَحِمَكَ اللَّهُ أَبَا خُبَيْبٍ ، سَمِعْتُ أَبَاكَ - يَعْنِي الزُّبَيْرَ - يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سُلَيْمِ بْنِ حَيَّانَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤حیان بن بسطام بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ تھا ان کا گزر سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جنہیں سولی پر لٹکا دیا گیا تھا ، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اے ابوخبیب اللہ تعالیٰ آپ پر رحم کرے میں نے آپ کے والد یعنی سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو شخص برا عمل کرے گا اسے اس کا بدلہ دے دیا جائے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) یعنی دنیا میں ایسا ہو گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن سلیم بن حیان ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔