مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿ وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص برا کام کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے “
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ فِي كِتَابِ اللَّهِ لَآيَتَيْنِ ، مَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا فَقَرَأَهُمَا وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ : وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ ، وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی کتاب میں دو آیات ایسی ہیں کہ جب کوئی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر ان دونوں کو پڑھ لے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت کر دے گا ( پہلی آیت یہ ہے : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ کہ جب وہ کسی برائی کا ارتکاب کرتے ہیں یا اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں ، اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں تو اللہ کے علاوہ اور کون گناہوں کی مغفرت کر سکتا ہے “ ۔ ( دوسری آیت یہ ہے : ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جو شخص برا کام کر لے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔