مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿ وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص برا کام کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے “
وَعَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : إِنَّ فِي الْقُرْآنِ لَآيَتَيْنِ ، مَا أَذْنَبَ عَبْدٌ ذَنْبًا ثُمَّ تَلَاهُمَا وَاسْتَغْفَرَ اللَّهَ إِلَّا غَفَرَ لَهُ . فَسَأَلُوهُ عَنْهُمَا فَلَمْ يُخْبِرْهُمْ . فَقَالَ عَلْقَمَةُ وَالْأَسْوَدُ أَحَدُهُمَا لِصَاحِبِهِ : قُمْ بِنَا ، وَقَامَا إِلَى الْمَنْزِلِ ، فَأَخَذَ الْمُصْحَفَ فَتَصَفَّحْنَا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَقَالَا : مَا رَأَيْنَاهُمَا ، ثُمَّ أَخَذَا فِي سُورَةِ النِّسَاءِ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ : وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا فَقَالَا : هَذِهِ وَاحِدَةٌ . ¤ ثُمَّ تَصَفَّحَا آلَ عِمْرَانَ حَتَّى انْتَهَيَا إِلَى قَوْلِهِ : ( وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ وَمَنْ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا اللَّهُ وَلَمْ يُصِرُّوا عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ ) . قَالَا : هَذِهِ أُخْرَى . ثُمَّ طَبَّقَا الْمُصْحَفَ ، ثُمَّ أَتَيَا عَبْدَ اللَّهِ فَقَالَا : هُمَا هَاتَانِ الْآيَتَانِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ إِلَّا أَنَّ إِبْرَاهِيمَ لَمْ يُدْرِكِ ابْنَ مَسْعُودٍ . ¤ابراہیم نخعی بیان کرتے ہیں : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : بے شک قرآن میں دو آیات ایسی ہیں کہ جب کوئی بندہ کسی گناہ کا ارتکاب کرے اور پھر وہ ان دونوں آیات کی تلاوت کر لے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ، تو اس کی مغفرت ہو جائے گی لوگوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے ان دونوں آیات کے بارے میں دریافت کیا تو سیدنا عبدالله رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کے بارے میں نہیں بتایا علقمہ اور اسودان دونوں میں سے ایک نے دوسرے سے کہا: تم ہمارے ساتھ اٹھ کر چلو اور وہ دونوں اٹھ کر اپنے گھر چلے گئے انہوں نے قرآن مجید کھولا اور اس کے صفحے پلٹنے شروع کیے انہوں نے سورت بقرہ دیکھی پھر ان دونوں نے کہا: ہمیں اس میں وہ آیات نظر نہیں آئی ہیں ۔ پھر انہوں نے سورت نساء دیکھی یہاں تک کہ وہ اس آیت پر پہنچے : ” اور جو شخص برا کام کر لے یا اپنے اوپر ظلم کر لے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا “ ۔ تو انہوں نے کہا: یہ ایک آیت ہو گئی ، پھر انہوں نے سورت آل عمران کے صفحات الٹنے شروع کیے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان پر پہنچے : ” جب وہ کوئی برائی کر لیں یا اپنے اوپر ظلم کر لیں تو وہ اللہ کا ذکر کرتے ہیں ، اور اپنے گناہوں کی مغفرت مانگتے ہیں تو گناہوں کی مغفرت صرف اللہ تعالیٰ کر سکتا ہے ان لوگوں نے جو کیا ہو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے جبکہ وہ علم رکھتے ہوں “ ۔ تو ان دونوں نے کہا: یہ دوسری آیت ہو گئی ، پھر ان دونوں نے قرآن مجید بند کیا پھر وہ دونوں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان دونوں نے کہا: وہ دو آیات یہ والی ہیں ؟ تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند عمدہ ہے البتہ ابراہیم نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔