مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿ وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص برا کام کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے “
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : كَانَ الرَّجُلُ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ إِذَا أَذْنَبَ أَصْبَحَ عَلَى بَابِهِ مَكْتُوبٌ : أَذْنَبْتُ كَذَا وَكَذَا ، وَكَفَّارَتُهُ كَذَا مِنَ الْعَمَلِ ، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَتَكَاثَرَهُ أَنْ يَعْمَلَهُ ، قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ : مَا أُحِبُّ أَنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَعْطَانَا ذَلِكَ مَكَانَ هَذِهِ الْآيَةِ : وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ سِيرِينَ مَا أَظُنُّهُ سَمِعَ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بنی اسرائیل سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص جب کسی گناہ کا ارتکاب کرتا تھا ، تو اس کے دروازے پر یہ لکھا ہوتا تھا کہ تم نے اس ، اس گناہ کا ارتکاب کیا ہے ، اور اس کا کفارہ ، یہ والا عمل کرنا ہے اس کا مقصد یہ تھا کہ وہ شخص اپنے گناہ کو بڑا سمجھے اور وہ عمل کر لے ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت کی جگہ ہمیں یہی صورت حال عطا کی ہوتی اور وہ آیت یہ ہے ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اور جو شخص برا کام کر لے یا اپنے اوپر ظلم کرے پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں البتہ ابن سیرین کے بارے میں میرا یہ گمان نہیں ہے کہ انہوں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع کیا ہو گا باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔