مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿ وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص برا کام کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے “
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ عَنْ نَبِيِّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا جَلَسَ وَجَلَسْنَا حَوْلَهُ فَأَرَادَ أَنْ يَقُومَ تَرَكَ نَعْلَيْهِ أَوْ بَعْضَ مَا يَكُونُ عَلَيْهِ ، وَإِنَّهُ قَامَ وَتَرَكَ نَعْلَيْهِ ، فَأَخَذْتُ رَكْوَةً مِنْ مَاءٍ فَأَدْرَكْتُهُ ، فَرَجَعَ وَلَمْ يَقْضِ حَاجَتَهُ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلَمْ تَكُنْ لَكَ حَاجَةٌ ؟ قَالَ : " بَلَى ، وَلَكِنْ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي فَقَالَ : وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا ، وَقَدْ كَانَتْ شَقَّتْ عَلَيَّ الْآيَةُ الَّتِي قَبْلَهَا : مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فَأَرَدْتُ أَنْ أُبَشِّرَ أَصْحَابِي " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَإِنْ زَنَا وَإِنْ سَرَقَ ثُمَّ اسْتَغْفَرَ غُفِرَ لَهُ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " ، ثُمَّ ثَلَّثْتُ ، قَالَ : " عَلَى رَغْمِ أَنْفِ أَبِي الدَّرْدَاءِ " . فَأَنَا رَأَيْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ يَضْرِبُ أَنْفَهُ بِإِصْبَعِهِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مُبَشِّرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ جب آپ تشریف فرما ہوئے ، تو ہم بھی آپ کے ارد گرد بیٹھ گئے ، پھر آپ نے اٹھنے کا ارادہ کیا ، اور اپنے جوتے وہیں چھوڑ دیے یا اپنے جسم پر موجود کوئی اضافی لباس وہیں چھوڑ دیا آپ اٹھے اور آپ نے جوتے وہیں چھوڑ دیے پھر آپ نے پانی کا ایک پیالہ لیا میں آپ کے پاس آیا لیکن آپ ایسے ہی واپس آ گئے آپ نے قضائے حاجت نہیں کی تھی میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کو قضائے حاجت کی ضرورت نہیں تھی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں لیکن میرے پروردگار کی طرف سے فرشتہ میرے پاس آیا اور اس نے یہ آیت پڑھی : ” اور جو شخص کوئی برا کام کرے یا اپنے اوپر ظلم کرے اور پھر وہ اللہ تعالیٰ سے مغفرت مانگے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کو مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا پائے گا “ ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اس سے پہلے والی آیت مجھ پر گراں تھی ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو شخص برائی کرے گا اسے اس کا بدلہ دیا جائے گا “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں اپنے ساتھیوں کو خوشخبری سنا دوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگرچہ اس شخص نے زنا کیا ہو اگرچہ اس نے چوری کی ہو پھر بھی وہ مغفرت مانگے ، تو اس کی مغفرت ہو جائے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں میں نے تین مرتبہ یہی دہرائی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگرچہ ابودرداء کی ناک خاک آلود ہو ( اس کے باوجود بھی ایسا ہو گا ) راوی بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی ناک پر انگلی لگایا کرتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبشر بن اسماعیل ہے ، جسے یحییٰ بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔