مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کے لئے نکلا “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : خَرَجَ ضَمْرَةُ بْنُ جُنْدُبٍ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا فَقَالَ لِأَهْلِهِ : احْمِلُونِي فَأَخْرِجُونِي مِنْ أَرْضِ الْمُشْرِكِينَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَمَاتَ فِي الطَّرِيقِ قَبْلَ أَنْ يَصِلَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ الْوَحْيُ : وَمَنْ يَخْرُجْ مِنْ بَيْتِهِ مُهَاجِرًا إِلَى اللَّهِ وَرَسُولِهِ ثُمَّ يُدْرِكْهُ الْمَوْتُ حَتَّى بَلَغَ : وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا ضمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ اپنے گھر سے ہجرت کرنے کے لئے نکلے انہوں نے اپنے اہل خانہ سے کہا: تم مجھے سوار کروا دو اور مجھے مشرکین کی سرزمین سے نکلوا دو تاکہ میں اللہ کے رسول کی طرف چلا جاؤں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچنے سے پہلے ان کا انتقال ہو گیا تو اس بارے میں یہ وحی نازل ہوئی : ” اور جو شخص اپنے گھر سے اللہ اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرنے کے لئے نکلے اور پھر اسے موت آ جائے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور اللہ تعالیٰ مغفرت کرنے والا رحم کرنے والا ہے “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔