مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ التَّوَضُّؤِ مِنْ جُلُودِ الْمَيْتَةِ وَالِانْتِفَاعِ بِهَا إِذَا دُبِغَتْ . باب: مردار کی کھال کی جب دباغت کر لی گئی ہو (تو اس سے بنے ہوئے مشکیزے میں موجود پانی کے ذریعے ) وضو کرنا یا اُس کھال سے نفع حاصل کرنا
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : كَانَتْ لَنَا شَاةٌ نَحْلِبُهَا ، فَفَقَدَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا فَعَلَتْ شَاتُكُمْ ؟ " قَالُوا : مَاتَتْ . قَالَ : " مَا فَعَلْتُمْ بِإِهَابِهَا ؟ " قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَلْقَيْنَاهُ . قَالَ : " أَفَلَا اسْتَنْفَعْتُمْ بِهِ ؟ فَإِنَّ دِبَاغَهَا ذَكَاتُهَا ، تَحِلُّ كَمَا يَحِلُّ الْخَلُّ مِنَ الْخَمْرِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، تَفَرَّدَ بِهِ فَرَجُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں : ہماری ایک بکری تھی ، جس کا ہم دودھ دوہا کرتے تھے ، ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے غیر موجود پایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہاری بکری کا کیا بنا ؟ لوگوں نے بتایا : وہ مر گئی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اُس کی کھال کا تم نے کیا کیا ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! ہم نے اسے پھینک دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اس کے ذریعہ نفع حاصل نہیں کیا ، اس کی دباغت ہی اس کی پاکیزگی کا باعث بن جانی تھی ، اور وہ اسی طرح حلال ہو جانی تھی ، جس طرح سرکہ ، شراب کو حلال کر دیتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، فرج بن فضالہ نامی راوی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے اور جمہور نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ۔