حدیث نمبر: 10946
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ جَاءَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَمَا لِي مِنْ رُخْصَةٍ ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ ابْنُ أُمِّ مَكْتُومٍ : اللَّهُمَّ إِنِّي ضَرِيرٌ فَرَخِّصْ لِي . فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِكِتَابَتِهَا . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے لوگ اور اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے لوگ برابر نہیں ہیں “ ۔ تو سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میرے لیے کوئی رخصت نہیں ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! سیدنا ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری بینائی رخصت ہو چکی ہے ، تو مجھے رخصت عطا فرما دیں ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ” جنہیں کوئی ضرر نہ ہو “ ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو تحریر کرنے کا حکم دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10946
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5053)»