مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بیٹھے رہنے والے لوگ برابر نہیں ہیں “
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : ( لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ ) قَالَ : هُمْ قَوْمٌ كَانُوا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَا يَغْزُونَ مَعَهُ لَأَسْقَامٍ وَأَمْرَاضٍ وَأَوْجَاعٍ ، وَآخَرُونَ أَصِحَّاءُ لَا يَغْزُونَ مَعَهُ ، فَكَانَ الْمَرْضَى فِي عُذْرٍ مِنَ الْأَصِحَّاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ أَحَدِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” اہل ایمان میں سے بیٹھے رہ جانے والے ( یعنی جہاد میں شرکت نہ کرنے والے ) وہ لوگ جنہیں کوئی ضرر لاحق نہ ہو “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : یہ وہ لوگ تھے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں موجود تھے اور انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ نہیں لیا اس کی وجہ کوئی بیماری کوئی مرض کوئی تکلیف تھی اسی طرح کچھ اور لوگ بھی تھے جو تندرست تھے ، لیکن انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ میں حصہ نہیں لیا تو تندرست لوگوں کے مقابلے میں بیمار لوگ معذور ہونے کی حالت میں تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک کے رجال ثقہ ہیں ۔