مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ﴾ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے موت دیتے ہیں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : لَمَّا نَزَلَتْ إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، قَالَ : كَانَ قَوْمٌ بِمَكَّةَ قَدْ أَسْلَمُوا ، فَلَمَّا هَاجَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْمَدِينَةِ كَرِهُوا أَنْ يُهَاجِرُوا وَخَافُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ إِلَى قَوْلِهِ إِلَّا الْمُسْتَضْعَفِينَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے اس حالت میں موت دیتے ہیں کہ جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : مکہ میں کچھ لوگ تھے جو اسلام قبول کر چکے تھے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی تو ان لوگوں نے ہجرت کرنے کو ناپسند کیا ، اور وہ خوف زدہ ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” بے شک وہ لوگ جنہیں فرشتے ایسی حالت میں موت دیتے ہیں کہ وہ لوگ اپنے اوپر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” البتہ کمزوروں کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔