مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ جب کبھی ان کی کھالیں جل جائیں گی تو ہم انہیں ان کی جگہ بدل کر دوسری کھالیں دے دیں گے “
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : قُرِئَ عِنْدَ عُمَرَ ( كُلَّمَا نَضِجَتْ جُلُودُهُمْ بَدَّلْنَاهُمْ جُلُودًا غَيْرَهَا ) فَقَالَ عُمَرُ : أَعِدْهَا ، فَأَعَادَهَا ، فَقَالَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : عِنْدِي تَفْسِيرُهَا : " يُبَدِّلُ فِي كُلِّ سَاعَةٍ مِائَةَ مَرَّةٍ " . فَقَالَ عُمَرُ : هَكَذَا سَمِعْتُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ نَافِعٌ مَوْلَى يُوسُفَ السُّلَمِيِّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت تلاوت کی گئی : ” جب کبھی ان کی کھالیں جل جائیں گی ، تو ہم انہیں ان کی جگہ بدل کر دوسری کھالیں دے دیں گے “ ۔ راوی کہتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم اس آیت کو دوبارہ پڑھو پڑھنے والے نے دوبارہ ان کے سامنے پڑھا سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میرے پاس اس کی تفسیر موجود ہے جس میں یہ بات ہے کہ ہر ایک ساعت میں ایک سو مرتبہ ان کی کھال بدلی جائے گی ۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی نافع ہے جو یوسف سلمی کا آزاد کردہ غلام ہے ، اور وہ متروک ہے ۔