مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا الْآيَةَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھا جو یہ کہتے ہیں : وہ ایمان لے آئے ہیں “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانَ أَبُو بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيُّ يَقْضِي بَيْنَ الْيَهُودِ فِيمَا يَتَنَافَرُونَ إِلَيْهِ ، فَتَنَافَرَ إِلَيْهِ نَاسٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ - تَعَالَى - : ( أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يَزْعُمُونَ أَنَّهُمْ آمَنُوا بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ وَمَا أُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ يُرِيدُونَ أَنْ يَتَحَاكَمُوا إِلَى الطَّاغُوتِ وَقَدْ أُمِرُوا أَنْ يَكْفُرُوا بِهِ ) إِلَى قَوْلِهِ : ( إِنْ أَرَدْنَا إِلَّا إِحْسَانًا وَتَوْفِيقًا ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ابوبرزہ اسلمی ایک کاہن تھا ، جو یہودیوں کے درمیان ان کے باہمی اختلافات کے بارے میں فیصلے دیا کرتا تھا مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد بھی اپنے باہمی مقدمات اس کی طرف لے گئے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ اس چیز پر ایمان لے آئے ہیں جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ، اور اس چیز پر ایمان لائے ہیں جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی اور پھر وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ اس طاغوت ( یعنی شیطان ) کو ثالث بنا لیں حالانکہ انہیں اس بات کا حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کا انکار کریں “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” ہمارا ارادہ صرف بھلائی اور باہمی موافقت کا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔