حدیث نمبر: 10930
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : إِنَّ لِي ابْنَ أَخٍ لَا يَنْتَهِي عَنْ حَرَامٍ ، قَالَ : " مَا دِينُهُ ؟ " . قَالَ : يُوَحِّدُ اللَّهَ وَيُصَلِّي . قَالَ : " فَاسْتَوْهِبْ مِنْهُ دِينَهُ ، فَإِنْ أَبَى فَابْتَعْهُ مِنْهُ " . فَطَلَبَ ذَلِكَ الرَّجُلُ مِنْهُ دِينَهُ فَأَبَى عَلَيْهِ ، فَأَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : وَجَدْتُهُ شَحِيحًا عَلَى دِينِهِ ، فَنَزَلَتْ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ وَاصِلُ بْنُ السَّائِبِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوایوب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی : میرا ایک بھتیجا ہے جو کسی حرام کام کے ارتکاب سے باز نہیں آتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا اس کا دین کیا ہے اس شخص نے بتایا وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا اعتراف کرتا ہے ، اور نماز ادا کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : پھر تم اس سے اس کا دین طلب کرو اگر وہ نہ مانے تو تم وہ اس سے خرید لینا اس شخص نے اپنے بھتیجے سے اس کا دین مانگا اس نے انکار کر دیا وہ شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو اس بارے میں بتایا اس نے عرض کی : میں نے اس کو پایا ہے کہ وہ اپنے دین کے بارے میں لگاؤ رکھتا ہے ، تو اس بارے میں یہ آیت نازل ہوئی : ” بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی واصل بن سائب ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10930
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (4063)»