مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ بے شک اللہ تعالیٰ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے “
عَنِ ابْنِ عُمَرَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا - قَالَ : كُنَّا نُمْسِكُ عَنِ الِاسْتِغْفَارِ لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ حَتَّى سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ( إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ أَنْ يُشْرَكَ بِهِ وَيَغْفِرُ مَا دُونَ ذَلِكَ لِمَنْ يَشَاءُ ) . قَالَ : " إِنِّي ادَّخَرْتُ دَعْوَتِي شَفَاعَتِي لِأَهْلِ الْكَبَائِرِ مِنْ أُمَّتِي " ، فَأَمْسَكْنَا عَنْ كَثِيرٍ مِمَّا كَانَ فِي أَنْفُسِنَا ، ثُمَّ نَطَقْنَا بَعْدُ وَرَجَوْنَا . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ حَرْبِ بْنِ سُرَيْجٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے ہم کبیرہ گناہوں کے مرتکبین کے لئے دعائے مغفرت کرنے سے رکے رہتے تھے یہاں تک کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا : ” بے شک اللہ اس بات کی مغفرت نہیں کرے گا کہ کسی کو اس کا شریک قرار دیا جائے اور وہ اس کے علاوہ جس کی چاہے گا مغفرت کر دے گا “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ” میں نے اپنی مخصوص دعا کو اپنی امت سے تعلق رکھنے والے کبیرہ گناہوں کے مرتکبین افراد کی شفاعت کے لئے سنبھال کے رکھ لیا ہے “ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ) تو پہلے ہم بہت سے امور کے حوالے سے رکے رہتے تھے ، بعد میں ہم نے ان کے بارے میں بات چیت کرنا شروع کر دی اور یہ امید رکھی ( کہ ان کی مغفرت ہو جائے گی ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف حرب بن سریج کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔