حدیث نمبر: 1093
وَعَنْ ثَابِتٍ قَالَ : كُنْتُ جَالِسًا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، فَأَتَى رَجُلٌ ضَخْمٌ فَقَالَ : يَا أَبَا عِيسَى ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ فِي الْفِرَاءِ . قَالَ : سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ : كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَتَى رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أُصَلِّي فِي الْفِرَاءِ ؟ قَالَ : " فَأَيْنَ الدِّبَاغُ ؟ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، تُكُلِّمَ فِيهِ لِسُوءٍ حَفِظَهُ ، وَوَثَّقَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین

ثابت بیان کرتے ہیں : میں عبدالرحمن بن ابولیلی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ، ایک بھاری بھرکم شخص آیا اور بولا: آپ ابوعیسی ہیں انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ، اس شخص نے کہا: آپ ہمیں وہ حدیث بیان کریں ، جو آپ نے چمڑے کے بارے میں سنی ہے ، انہوں نے بتایا : میں نے اپنے والد کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے : ایک مرتبہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، ایک شخص آیا ، اس نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! کیا میں چمڑے میں نماز ادا کر لوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو دباغت کہاں جائے گی ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن عبدالرحمن بن ابی لیلی ہے ، جس کے حافظے کی خرابی کے حوالے سے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، ابوحاتم نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الطهارة / حدیث: 1093
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف