حدیث نمبر: 10918
عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ قَالَ : تُوُفِّيَ أَبُو قَيْسٍ مِنْ صَالِحِي الْأَنْصَارِ ، فَخَطَبَ ابْنُهُ قَيْسٌ امْرَأَتَهُ ، فَقَالَتْ : أَنَا أَعُدُّكَ وَلَدًا وَأَنْتَ مِنْ صَالِحِي قَوْمِكَ ، وَلَكِنِّي آتِي رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَسْتَأْمِرُهُ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : إِنَّ أَبَا قَيْسٍ تُوُفِّيَ ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : خَيْرًا ، قَالَتْ : وَإِنَّ ابْنَهُ قَيْسًا خَطَبَنِي ، وَهُوَ مِنْ صَالِحِي قَوْمِهِ ، وَإِنَّمَا كُنْتُ أَعُدُّهُ وَلَدًا ، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْجِعِي إِلَى بَيْتِكِ " . فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( وَلَا تَنْكِحُوا مَا نَكَحَ آبَاؤُكُمْ مِنَ النِّسَاءِ ) . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : ابوقیس کا انتقال ہو گیا وہ انصار کے نیک لوگوں میں سے ایک تھے ان کے بیٹے قیس نے ان کی اہلیہ کو شادی کا پیغام بھیجا تو اس نے کہا: میں تو تمہیں اپنا بیٹا شمار کرتی تھی اور تم اپنی قوم کے نیک افراد میں سے ایک ہو البتہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے اس بارے میں دریافت کر لیتی ہوں پھر وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اس نے عرض کی : ابوقیس کا انتقال ہو گیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے بھلائی کے کلمات ارشاد فرمائے اس خاتون نے بتایا کہ اس کے بیٹے قیس نے مجھے شادی کا پیغام دیا ہے ، اور وہ اپنی قوم کے نیک افراد میں سے ایک ہیں ، اور میں تو انہیں بیٹا ہی سمجھتی ہوں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : تم اپنے گھر واپس چلی جاؤ پھر یہ آیت نازل ہو گئی : ” تم ان کے ساتھ نکاح نہ کرو جن خواتین کے ساتھ تمہارے باپ دادا نے نکاح کیا ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب التفسير / حدیث: 10918
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (393/22)»