مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اور جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں قتل کر دیا گیا انہیں مردہ ہرگز گمان نہ کرو “
عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ : سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ : وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا ، إِلَى يُرْزَقُونَ ، قَالَ : أَرْوَاحُ الشُّهَدَاءِ عِنْدَ اللَّهِ كَطَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ حَيْثُ شَاءَتْ . ¤ فَاطَّلَعَ عَلَيْهِمْ رَبُّكَ اطِّلَاعَةً ، فَقَالَ : هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ ؟ قَالُوا : رَبَّنَا أَلَسْنَا نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا ؟ قَالَ : ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّانِيَةَ ، فَقَالَ : هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ ؟ قَالُوا : رَبَّنَا أَلَسْنَا نَسْرَحُ فِي الْجَنَّةِ فِي أَيِّهَا شِئْنَا ؟ قَالَ : ثُمَّ اطَّلَعَ إِلَيْهِمُ الثَّالِثَةَ ، فَقَالَ : هَلْ تَشْتَهُونَ مِنْ شَيْءٍ فَأَزِيدُكُمُوهُ ؟ قَالُوا : تُعِيدُ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا فَنُقَاتِلَ فِي سَبِيلِكَ فَنُقْتَلُ مَرَّةً أُخْرَى . قَالَ : فَسَكَتَ عَنْهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَلَهُ أَسَانِيدُ أُخَرُ ضَعِيفَةٌ . ¤مسروق بیان کرتے ہیں : ہم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں دریافت کیا اور جن لوگوں کو اللہ کی راہ میں قتل کر دیا گیا انہیں مردہ ہرگز شمار نہ کرو “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” انہیں رزق دیا جاتا ہے “ ۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یہ شہداء کی ارواح ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سبز پرندوں کی مانند ہوتی ہیں ان کے لئے عرش کے ساتھ قندیلیں لٹکی ہوئی ہیں وہ جنت میں جہاں چاہتے ہیں چلے جاتے ہیں ان کا پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر فرماتا ہے : کیا تمہیں مزید کسی چیز کی خواہش ہے تاکہ وہ میں تمہیں دے دوں ؟ وہ عرض کرتے ہیں : اے ہمارے پروردگار ! کیا ایسا نہیں ہے کہ ہم جنت میں جہاں چاہیں جا سکتے ہیں پھر پروردگار ان کی طرف دوسری مرتبہ متوجہ ہو کر دریافت کرتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے کہ میں وہ تمہیں مزید دے دوں ؟ وہ عرض کرتے ہیں اے ہمارے پروردگار کیا ہم جنت میں جہاں چاہیں وہاں جا نہیں سکتے ہیں پھر تیسری مرتبہ پروردگار ان کی طرف متوجہ ہو کر ارشاد فرماتا ہے کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے جو میں تمہیں مزید دوں ؟ تو وہ عرض کرتے ہیں تو ہماری روحیں ہمارے جسموں میں لوٹا دے تاکہ ہم تیری بارگاہ میں جہاد کریں اور ہمیں پھر قتل کر دیا جائے ۔ راوی کہتے ہیں : تو پروردگار ان کے حوالے سے خاموش ہو جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں اس کی کچھ دیگر ضعیف اسانید بھی ہیں ۔