مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ مِنْهُ فِي بَيَانِ فَرَائِضِ الْإِسْلَامِ وَسِهَامِهِ . باب: اسلام کے فرائض اور اس کے حصوں کا بیان
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْإِسْلَامُ ثَمَانِيَةُ أَسْهُمٍ : الْإِسْلَامُ سَهْمٌ ، وَالصَّلَاةُ سَهْمٌ ، وَالزَّكَاةُ سَهْمٌ ، وَحَجُّ الْبَيْتِ سَهْمٌ ، وَالصِّيَامُ سَهْمٌ ، وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ سَهْمٌ ، وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ سَهْمٌ ، وَالْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ سَهْمٌ ، وَقَدْ خَابَ مَنْ لَا سَهْمَ لَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ يَزِيدُ بْنُ عَطَاءٍ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اسلام کے آٹھ حصے ہیں ، اسلام ( یعنی کلمہ شہادت ) ایک حصہ ہے ، نماز ایک حصہ ہے ، زکوۃ ایک حصہ ہے ، بیت اللہ کا حج ایک حصہ ہے ، روزے رکھنا ایک حصہ ہے ، نیکی کا حکم دینا ایک حصہ ہے ، برائی سے منع کرنا ایک حصہ ہے ، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ایک حصہ ہے ، تحقیق وہ شخص خسارے کا شکار ہو گیا ، جس کا ( ان میں سے ) کوئی حصہ نہ ہو “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی یزید بن عطاء ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے ، لیکن ایک جماعت نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے باقی راوی ثقہ ہیں ۔