مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ لوگ جو اپنے اموال ، رات میں اور دن میں پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر خرچ کرتے ہیں “
حدیث نمبر: 10884
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ : الَّذِينَ يُنْفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ بِاللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سِرًّا وَعَلَانِيَةً قَالَ : نَزَلَتْ فِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، كَانَتْ عِنْدَهُ أَرْبَعَةُ دَرَاهِمَ ، فَأَنْفَقَ بِاللَّيْلِ وَاحِدًا ، وَبِالنَّهَارِ وَاحِدًا ، وَفِي السِّرِّ وَاحِدًا ، وَفِي الْعَلَانِيَةِ وَاحِدًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ مُجَاهِدٍ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو لوگ اپنے اموال رات میں اور دن میں پوشیدہ طور پر اور اعلانیہ طور پر خرچ کرتے ہیں“ ۔ ( سیدنا عبداللہ بن عباس ) فرماتے ہیں : یہ آیت سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ان کے پاس چار درہم تھے انہوں نے ایک درہم رات کے وقت خرچ کر دیا ایک دن کے وقت خرچ کیا ، اور ایک پوشیدہ طور پر خرچ کیا ، اور ایک علانیہ طور پر خرچ کیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالواحد بن مجاہد ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔