مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تم پر ان کی ہدایت لازم نہیں ہے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : كَانُوا أَنْ يَرْضَخُوا لِأَنْسَابِهِمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ ، فَسَأَلُوا فَرُخِّصَ لَهُمْ فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : لَيْسَ عَلَيْكَ هُدَاهُمْ وَلَكِنَّ اللَّهَ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَلِأَنْفُسِكُمْ ، إِلَى قَوْلِهِ : وَأَنْتُمْ لَا تُظْلَمُونَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ عَنْ شَيْخِهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : پہلے لوگ اس بات کو مکروہ سمجھتے تھے کہ اپنے نسب مشرکین کے ساتھ ملائیں ان لوگوں نے اس بارے میں دریافت کیا انہیں اس بارے میں رخصت دے دی گئی اور یہ آیت نازل ہوئی : ان کو ہدایت دینا تمہارے ذمہ نہیں ہے لیکن اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے ، اور تم جو بھی بھلائی کرو گے تو اپنی ذات کے لئے کرو گے “ ۔ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور تم پر ظلم نہیں کیا جائے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اپنے استاد عبداللہ بن محمد بن سعید بن ابومریم کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔