مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصبیت لاحق ہتی ہے تو وہ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے مخصوص ہیں اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ : الَّذِينَ إِذَا أَصَابَتْهُمْ مُصِيبَةٌ قَالُوا إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ أُولَئِكَ عَلَيْهِمْ صَلَوَاتٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَرَحْمَةٌ وَأُولَئِكَ هُمُ الْمُهْتَدُونَ . قَالَ : أَخْبَرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ أَنَّ الْعَبْدَ الْمُؤْمِنَ إِذَا سَلَّمَ لِأَمْرِ اللَّهِ وَرَجَعَ ، فَاسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ ، كُتِبَ لَهُ ثَلَاثُ خِصَالٍ مِنَ الْخَيْرِ : الصَّلَاةُ مِنَ اللَّهِ ، وَالرَّحْمَةُ ، وَتَحْقِيقُ سَبِيلِ الْهُدَى . ¤ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنِ اسْتَرْجَعَ عِنْدَ الْمُصِيبَةِ جَبَرَ اللَّهُ مُصِيبَتَهُ ، وَأَحْسَنَ عُقْبَاهُ ، وَجَعَلَ لَهُ خَلَفًا يَرْضَاهُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ کہ جب انہیں کوئی مصیبت لاحق ہوتی ہے ، تو وہ یہ کہتے ہیں : بے شک ہم اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں ، اور بے شک ہم نے اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر ان کے پروردگار کی طرف سے درود نازل ہوتا ہے ، اور رحمت نازل ہوتی ہے ، اور یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے کہ جب کوئی مومن بندہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے ، اور مصیبت کے وقت ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ پڑھتا ہے ، تو اس کے لئے تین قسم کی بھلائیاں نوٹ کر لی جاتی ہیں ، اس کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور ہوتا ہے رحمت ہوتی ہے ، اور حق کا راستہ واضح ہو جاتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مصیبت کے وقت ﴿إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ﴾ پڑھ لے گا اللہ تعالیٰ اس کی مصیبت ( کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ناگوار صورتحال کو ) ٹھیک کر دے گا اور اس کو اچھا انجام نصیب کرے گا اور اس ( فوت ہونے والی چیز کی جگہ ) اسے ایسی چیز عطا کرے گا جس سے وہ راضی ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند حسن ہے ۔