مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم نے اپنی ذات کے ساتھ خیانت کی تھی “
عَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ النَّاسُ فِي رَمَضَانَ إِذَا صَامَ الرَّجُلُ فَأَمْسَى فَنَامَ ، حَرُمَ عَلَيْهِ الطَّعَامُ وَالشَّرَابُ وَالنِّسَاءُ حَتَّى يُفْطِرَ مِنَ الْغَدِ . ¤ فَرَجَعَ عُمَرُ مِنْ عِنْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ وَقَدْ سَمَرَ عِنْدَهُ ، فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَدْ نَامَتْ ، فَأَرَادَهَا ، فَقَالَتْ : إِنِّي نِمْتُ ، فَقَالَ : مَا نِمْتِ . ثُمَّ وَقَعَ بِهَا ، وَصَنَعَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَغَدَا عُمَرُ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَخْبَرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : عَلِمَ اللَّهُ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَخْتَانُونَ أَنْفُسَكُمْ فَتَابَ عَلَيْكُمْ وَعَفَا عَنْكُمْ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ وَقَدْ ضُعِّفَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : رمضان کے مہینے میں پہلے یہ ہوتا تھا کہ جب کوئی شخص روزہ رکھتا تھا اور شام ہو جانے کے بعد سو جاتا تھا ، تو اب اس پر کچھ کھانا یا پینا یا عورتوں کے ساتھ قربت کرنا حرام ہو جاتا تھا جب تک وہ اگلے دن افطاری نہیں کر لیتا ایک رات سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے اٹھ کر واپس گئے وہ رات دیر تک نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس رہے تھے انہوں نے اپنی اہلیہ کو پایا کہ وہ سو چکی تھیں انہوں نے اپنی اہلیہ کے ساتھ قربت کا ارادہ کیا تو اس خاتون نے کہا: میں تو سو چکی تھی سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: ، لیکن میں تو نہیں سویا تھا پھر انہوں نے اس اہلیہ کے ساتھ قربت کر لی سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نے بھی اسی طرح کا عمل کیا پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اللہ تعالیٰ یہ بات جانتا ہے کہ تم نے اپنی ذات کے بارے میں خیانت کی تھی ، تو اس نے تمہاری توبہ کو قبول کیا ، اور تم سے درگزر کیا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کی سند حسن ہے اس راوی کو ضعیف قرار دیا گیا ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔