مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ قَوْلِهِ : شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ وَقَوْلِهِ : إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ أُنْزِلَ فِي رَمَضَانَ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ فِي لَيْلَةٍ مُبَارَكَةٍ جُمْلَةً وَاحِدَةً ، ثُمَّ أُنْزِلَ عَلَى مَوَاقِعِ النُّجُومِ رَسْلًا فِي الشُّهُورِ وَالْأَيَّامِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ سَعْدُ بْنُ طَرِيفٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں دریافت کیا گیا ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ” رمضان کا وہ مہینہ جس میں قرآن نازل کیا گیا “ ۔ جبکہ ایک اور مقام پر ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” بے شک ہم نے اسے برکت والی رات میں نازل کیا ہے “ ۔ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : یہ رمضان میں شب قدر میں نازل کیا گیا جو برکت والی رات ہے اس میں ایک ہی مرتبہ نازل ہوا اور پھر یہ آسمان سے وقفے وقفے سے مختلف مہینوں اور دنوں میں نازل ہوا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی اس کی سند میں ایک راوی سعد بن طریف ہے ، اور وہ متروک ہے ۔