مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
قَوْلُهُ تَعَالَى : فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ . باب: ارشاد باری تعالیٰ ہے :’’ تو معروف طریقے سے ہمراہ کی پیروی ہو گی “
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَوْلُهُ : فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ قَالَ : كَانَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ إِذَا قُتِلَ مِنْهُمُ الْقَتِيلُ عَمْدًا لَمْ يَحِلَّ لَهُمْ إِلَّا الْقَوَدُ ، وَأُحِلَّ الدِّيَةُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ ، فَأُمِرَ هَذَا أَنْ يَتَّبِعَ بِمَعْرُوفٍ ، وَأُمِرَ هَذَا أَنْ يُؤَدِّيَ بِإِحْسَانٍ ، ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْمَعْمَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” تو معروف طریقے کے ہمراہ پیروی ہو گی اور احسان ( یا بھلائی ) کے ہمراہ اسے ادائیگی کی جائے گی “ ۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : بنی اسرائیل میں سے کوئی شخص جب کسی کو قتل عمد کے طور پر قتل کر دیتا تھا ، تو ان میں صرف قصاص کا حکم تھا اس امت کے لئے دیت کو حلال قرار دیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے یہاں یہ حکم دیا کہ وہ معروف طریقے سے پیروی کرے گا اور دوسرے شخص کو یہ حکم دیا کہ وہ بھلائی کے ہمراہ ادائیگی کرے گا یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے عطا کردہ تخفیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن علی معمری ہے ، اور وہ ضعیف ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔