مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي مَاءِ الْبَحْرِ . باب: سمندر کے پانی کا بیان
وَعَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ أَيْضًا قَالَ : أَوْصَانِي سِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ وَعَنْ أَيِّ شَهْرٍ أَصُومُ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : إِنَّ أَخِي أَمَرَنِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ، فَقَالَ : هُمَا الْبَحْرَانِ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِمَا تَوَضَّأْتَ . وَعَنْ أَيِّ الشَّهْرِ أَصُومُ ؟ فَقَالَ : أَيَّامَ الْبَيْضِ . فَقُلْتُ : إِنَّا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي فَنُصِيبُ السَّبْيَ ، أَفَأَعْتِقُ عَنْ أُمِّي وَلَمْ تَأْمُرْنِي ؟ قَالَ : أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤موسیٰ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سنان بن سلمہ نے مجھے یہ ہدایت کی : کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کروں ، اور اس بارے میں دریافت کروں کہ مجھے مہینے کے کون سے حصے میں روزے رکھنے چاہیں ؟ میں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میں نے کہا: میرے بھائی نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں آپ سے سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کرنے کے بارے میں دریافت کروں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : دو سمندر ہیں ، تم اُن دونوں میں سے جس کے ذریعے بھی وضو کر لو گے ، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا ( راوی نے دریافت کیا : ) اور میں ، مہینے کے کون سے حصے میں روزے رکھوں ؟ انہوں نے فرمایا : ایام بیض میں ، میں نے دریافت کیا : ہم جنگ میں حصہ لیتے ہیں ، قیدی ہمارے ہاتھ لگ جاتے ہیں ، تو کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے کسی کو آزاد کر سکتا ہوں ؟ جبکہ انہوں نے مجھے اس کی ہدایت بھی نہ کی ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کر دو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔