حدیث نمبر: 1078
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ الْكِنَانِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ بَعْضَ بَنِي مُدْلِجٍ أَخْبَرَهُ أَنَّهُمْ كَانُوا يَرْكَبُونَ الْأَرْمَاثَ فِي الْبَحْرِ لِلصَّيْدِ ، فَيَحْمِلُونَ مَعَهُمْ مَاءً لِلسُّقَاةِ ، فَتُدْرِكُهُمُ الصَّلَاةُ وَهُمْ فِي الْبَحْرِ ، وَأَنَّهُمْ ذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالُوا : إِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَائِنَا عَطِشْنَا ، وَإِنْ نَتَوَضَّأْ بِمَاءِ الْبَحْرِ وَجَدْنَا فِي أَنْفُسِنَا . فَقَالَ لَهُمْ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحَلَالُ مَيْتَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں : بنومدلج سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب نے انہیں بتایا ، وہ لوگ شکار کرنے کے لیے سمندر کے سفر پر نکلے ، انہوں نے پینے کے لیے اپنے ساتھ پانی رکھ لیا ، سمندر میں ہی انہیں نماز کا وقت ہو گیا ، انہوں نے اس بات کا تذکرہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا اور بولے : اگر ہم اپنے پانی کے ذریعے وضو کر لیتے ، تو ہم نے پیاسے رہ جانا تھا ، اور اگر ہم سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کرتے ، تو ہمیں اُس حوالے سے الجھن رہنی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ( یعنی سمندر ) کا پانی پاک ہے ( یا اس کا پانی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے ) اور اس کا مردار حلال ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حدیث نمبر: 1079
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْمُدْلِجِيِّ أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا قَوْمٌ نَرْكَبُ الرَّمْثَ فَنَحْمِلُ الْمَاءَ لِسَقْيِنَا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحَلَالُ مِيتَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ عُمَرَ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَالنَّسَائِيُّ ، وَوَثَّقَهُ مُحَمَّدُ بْنُ سَعْدٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ مدلجی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کشتیوں پر سوار ہو کر جاتے ہیں ، ہم اپنے پینے کے لیے کچھ پانی لے جاتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس ( سمندر ) کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ محمد بن سعد نے اُسے ثقہ کہا: ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالجبار بن عمر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ محمد بن سعد نے اُسے ثقہ کہا: ہے ۔
حدیث نمبر: 1080
وَعَنِ الْعَرَكِيِّ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ : " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ ، الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عرکی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اُس کا پانی پاک ہے اور اس کا مردار حلال ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 1081
وَعَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ قَالَ : حَجَجْتُ أَنَا وَسِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ . قَالَ : فَلَمَّا قَدِمْنَا مَكَّةَ قُلْتُ : انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، فَدَخَلْنَا عَلَيْهِ . قَالَ : وَسَأَلْتُهُ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ فَقَالَ : مَاءُ الْبَحْرِ طَهُورٌ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
موسی بن سلمہ بیان کرتے ہیں : میں اور سنان بن سلمہ حج کرنے کے لئے گئے ، جب ہم مکہ آئے تو میں نے کہا: تم ہمارے ساتھ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس چلو ! ہم اُن کی خدمت میں حاضر ہوئے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے اُن سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کیا ، تو انہوں نے ارشاد فرمایا : سمندر کا پانی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 1082
وَعَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ أَيْضًا قَالَ : أَوْصَانِي سِنَانُ بْنُ سَلَمَةَ أَنْ أَسْأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ مَاءِ الْبَحْرِ وَعَنْ أَيِّ شَهْرٍ أَصُومُ ، فَأَتَيْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ فَقُلْتُ : إِنَّ أَخِي أَمَرَنِي أَنْ أَسْأَلَكَ عَنِ الْوُضُوءِ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ، فَقَالَ : هُمَا الْبَحْرَانِ ، لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِمَا تَوَضَّأْتَ . وَعَنْ أَيِّ الشَّهْرِ أَصُومُ ؟ فَقَالَ : أَيَّامَ الْبَيْضِ . فَقُلْتُ : إِنَّا نَكُونُ فِي هَذِهِ الْمَغَازِي فَنُصِيبُ السَّبْيَ ، أَفَأَعْتِقُ عَنْ أُمِّي وَلَمْ تَأْمُرْنِي ؟ قَالَ : أَعْتِقْ عَنْ أُمِّكَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
موسیٰ بن سلمہ بیان کرتے ہیں : سنان بن سلمہ نے مجھے یہ ہدایت کی : کہ میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے سمندر کے پانی کے بارے میں دریافت کروں ، اور اس بارے میں دریافت کروں کہ مجھے مہینے کے کون سے حصے میں روزے رکھنے چاہیں ؟ میں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور میں نے کہا: میرے بھائی نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں آپ سے سمندر کے پانی کے ذریعے وضو کرنے کے بارے میں دریافت کروں ، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : دو سمندر ہیں ، تم اُن دونوں میں سے جس کے ذریعے بھی وضو کر لو گے ، تمہیں کوئی نقصان نہیں ہو گا ( راوی نے دریافت کیا : ) اور میں ، مہینے کے کون سے حصے میں روزے رکھوں ؟ انہوں نے فرمایا : ایام بیض میں ، میں نے دریافت کیا : ہم جنگ میں حصہ لیتے ہیں ، قیدی ہمارے ہاتھ لگ جاتے ہیں ، تو کیا میں اپنی والدہ کی طرف سے کسی کو آزاد کر سکتا ہوں ؟ جبکہ انہوں نے مجھے اس کی ہدایت بھی نہ کی ہو ، تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : تم اپنی والدہ کی طرف سے غلام آزاد کر دو ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔