مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب التفسير— تفسیر کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَفَاتِحَةِ الْكِتَابِ . باب: بسم اللہ الرحمن الرحیم اور سورت فاتحہ کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10811
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ - يَعْنِي ابْنَ مَسْعُودٍ - أَنَّهُ قَرَأَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ - بِالْأَلِفِ - غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ ، خَفْضٍ ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ الْفَيَّاضُ بْنُ غَزْوَانَ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَجَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لفظ «مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ» یعنی الف کے ساتھ اسے پڑھا اور «غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِم» پڑھا ، یعنی یہ زیر کے ساتھ ہے ۔
علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی فیاض بن غزوان ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس کے علاوہ راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔