حدیث نمبر: 10778
وَعَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : لَقِيتُ عُمَرَ وَهُوَ بِالْمَوْسِمِ فَنَادَيْتُهُ مِنْ وَرَاءِ الْفُسْطَاطِ : أَلَا إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ الْجُرْمِيَّ ، وَابْنَ أُخْتٍ لَنَا عَانٍ فِي بَنِي فُلَانٍ ، وَقَدْ عَرَضْنَا عَلَيْهِ فَرِيضَةَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : فَرَفَعَ عُمَرُ جَانِبَ الْفُسْطَاطِ ، وَقَالَ : أَتَعْرِفُ صَاحِبَكَ ؟ قُلْتُ : نَعَمْ ، هُوَ ذَاكَ . قَالَ : انْطَلِقَا بِهِ حَتَّى تُنَفِّذَ قَضِيَّةَ رَسُولِ اللَّهِ ، صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ قَالَ : وَكُنَّا نُحَدَّثُ أَنَّ الْقَضِيَّةَ أَرْبَعٌ مِنَ الْإِبِلِ . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

عاصم بن کلیب نے اپنے والد کا یہ بیان نقل کیا ہے میری ملاقات حج کے موقع پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے ہوئی میں نے خیمے کے پیچھے سے پکار کر کہا: خبردار ! میں فلاں بن فلاں جرمی ہوں اور ہمارا بھانجا ، فلاں شخص کے پاس قید ہے ، ہم نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مقرر کردہ فریضہ پیش کیا ، راوی بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے خیمے کا کونہ اٹھایا اور بولے : کیا تم اپنے متعلقہ فرد کو جانتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : جی ہاں وہ وہاں ہیں تو انہوں نے فرمایا : پھر تم دونوں اس کو لے کر آؤ تاکہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے کو نافذ کریں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم یہ بات چیت کیا کرتے تھے کہ وہ ادائیگی چار اونٹوں کی تھی ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10778
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (169)»