حدیث نمبر: 10746
عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ قَالَ : قَتَلَ رَجُلٌ مِنْ هُذَيْلٍ رَجُلًا مِنْ خُزَاعَةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، وَكَانَ الْهُذَلِيُّ مُتَوَارِيًا فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ وَظَهَرَ النِّدَاءُ ظَهَرَ الْهُذَلِيُّ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنْ خُزَاعَةَ فَذَبَحَهُ كَمَا تُذْبَحُ الشَّاةُ . ¤ فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " أَقَتَلْتَهُ قَبْلَ النِّدَاءِ أَوْ بَعْدَ النِّدَاءِ ؟ " . فَقَالَ : بَعْدَ النِّدَاءِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ كُنْتُ قَاتِلًا مُؤْمِنًا بِكَافِرٍ لَقَتَلْتُهُ ، فَأَخْرِجُوا عَقْلَهُ " . فَأَخْرَجُوا عَقْلَهُ ، وَكَانَ أَوَّلَ عَقْلٍ فِي الْإِسْلَامِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے خزاعہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کو زمانہ جاہلیت میں قتل کر دیا پھر ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص چھپ کر زندگی گزارتا رہا فتح مکہ کے موقع پر جب اعلان ہوا ( کہ زمانہ جاہلیت کا ہر قتل کالعدم قرار دیا جاتا ہے ) تو ہذیل قبیلے سے تعلق رکھنے والا وہ شخص سامنے آ گیا خزانہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے شخص کی اس سے ملاقات ہوئی اس نے اسے ذبح کر دیا جس طرح بکری کو ذبح کیا جاتا ہے یہ معاملہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم نے اسے اعلان ہونے سے پہلے قتل کیا تھا یا اعلان ہونے کے بعد قتل کیا تھا اس نے عرض کی : اعلان ہونے کے بعد کیا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اگر میں نے کسی کافر کے بدلے میں کسی مؤمن کو قتل کرنا ہوتا تو میں نے اسے قتل کروا دینا تھا تم لوگ اس کی دیت ادا کرو تو ان لوگوں نے اس کی دیت ادا کی اور یہ اسلام میں پہلی دیت تھی ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کے رجال کو ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے امام طبرانی نے اسے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10746
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1546) اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (110/18)»