مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ بِالْمُشَمَّسِ . باب: دھوپ میں پڑے ہوئے پانی کے ذریعے وضو کرنا
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : أَسْخَنْتُ مَاءً فِي الشَّمْسِ ، فَأَتَيْتُ بِهِ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِيَتَوَضَّأَ بِهِ ، فَقَالَ : " لَا تَفْعَلِي يَا عَائِشَةُ ; فَإِنَّهُ يُورِّثُ الْبَيَاضَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ مَرْوَانَ السُّدِّيُّ ، وَقَدْ أَجْمَعُوا عَلَى ضَعْفِهِ . وَقَالَ - أَيِ الطَّبَرَانِيُّ - : لَا يُرْوَى عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ . قُلْتُ : قَدْ رَوَيْنَاهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ . ¤سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے دھوپ میں پانی گرم کیا ، میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی ، تاکہ آپ اس کے ذریعے وضو کر لیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عائشہ ! تم ایسا نہ کرو ، کیونکہ اس کے نتیجے میں سفیدی ( یعنی برص کا مرض ) پیدا ہوتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن مروان سدی ہے ، جس کے ضعیف ہونے پر محدثین کا اتفاق ہے ، وہ یعنی امام طبرانی فرماتے ہیں : یہ روایت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف اسی سند کے ساتھ منقول ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ہم یہ روایت سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث کے طور پر نقل کر چکے ہیں ۔