مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الْوُضُوءِ مِنَ الْمَطَاهِرِ . باب: طہارت کے برتن ( شاید لوٹا مراد ہے) کے ذریعہ وضو کرنا
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْوُضُوءُ مِنْ جَرٍّ جَدِيدٍ مُخَمَّرٍ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مِنَ الْمَطَاهِرِ ؟ فَقَالَ : " لَا، بَلْ مِنَ الْمَطَاهِرِ، إِنَّ دِينَ اللَّهِ الْحَنِيفِيَّةُ السَّمْحَةُ " . قَالَ : وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَبْعَثُ إِلَى الْمَطَاهِرِ ، فَيُؤْتَى بِالْمَاءِ فَيَشْرَبُهُ ، يَرْجُو بَرَكَةَ أَيْدِي الْمُسْلِمِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَعَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي رَوَّادٍ ثِقَةٌ ، يُنْسَبُ إِلَى الْإِرْجَاءِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! ڈھانپے ہوئے نئے مٹکے کے ذریعے وضو کرنا آپ کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ، یا طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! بلکہ طہارت کے مخصوص برتن کے ذریعے ( وضو کرنا ، میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ) بے شک اللہ تعالیٰ کا دین ، درست اور آسان ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طہارت کا برتن منگوایا کرتے تھے ، اس میں پانی لایا جاتا تھا ، تو آپ اس پانی کو پیتے تھے آپ مسلمانوں کے ہاتھوں کی برکت کی امید رکھتے ( ہوئے ایسا کرتے ) تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ، عبدالعزیز بن ابورواد نامی راوی ثقہ ہے اس کی نسبت ” ارجاء “ کی طرف کی گئی ہے ۔