حدیث نمبر: 10706
وَعَنْ حُصَيْنِ بْنِ أَبِي الْحُرِّ ; أَنَّ أَبَاهُ مَالِكًا ، وَعَمَّيْهِ عُبَيْدًا وَقَيْسًا بَنِي الْخَشْخَاشِ أَتَوُا النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَشَكَوْا إِلَيْهِ إِغَارَةَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي عَمِّهِمْ عَلَى النَّاسِ . ¤ فَكَتَبَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَذَا كِتَابٌ مِنْ مُحَمَّدٍ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِمَالِكٍ وَعُبَيْدٍ ; أَنَّكُمْ آمِنُونَ مُسْلِمُونَ بِأَمَانٍ عَلَى دِمَائِكُمْ وَأَمْوَالِكُمْ ، لَا تُؤْخَذُونَ بِجَرِيرَةِ غَيْرِكُمْ ، وَلَا تَجْنِي عَلَيْكُمْ إِلَّا أَيْدِيكُمْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَهُوَ مُرْسَلٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

حصین بن ابوحر بیان کرتے ہیں : ان کے والد مالک اور ان کے دو چچاؤں عبید اور قیس یہ سب خشخاش کے بیٹے ہیں یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے آپ کے سامنے اس بات کی شکایت کی کہ ان کے چچا زاد سے لوگوں سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے لوگوں پر ظلم کیا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو مکتوب لکھا ( جس میں یہ تحریر تھا : ) ” یہ اللہ کے رسول سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی جانب سے مالک اور عبید کے نام مکتوب ہے تم لوگ ایمان رکھنے والے مسلمان ہو اور تمہاری جانوں اور اموال کو امان حاصل ہے ، تو تم اپنے علاوہ کسی اور کے جرم میں نہیں پکڑے جاؤ گے اور کوئی تم پر زیادتی نہیں کرے گا البتہ تم خود جو کرو گے اس کا معاملہ مختلف ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے
یہ روایت مرسل ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الديات / حدیث: 10706
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (293/19)»