حدیث نمبر: 107
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ ،: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ثَلَاثٌ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهِنَّ لَبَرَرْتُ ، وَالرَّابِعَةُ لَوْ حَلَفْتُ عَلَيْهَا رَجَوْتُ أَنْ لَا آثَمَ : لَا يَجْعَلُ اللَّهُ مَنْ لَهُ سَهْمٌ فِي الْإِسْلَامِ كَمَنْ لَا سَهْمَ لَهُ ، وَلَا يَتَوَلَّى اللَّهُ عَبْدَهُ فِي الدُّنْيَا فَيُوَلِّيهِ غَيْرَهُ فِي الْآخِرَةِ ، وَلَا يُحِبُّ عَبْدٌ قَوْمًا إِلَّا بَعَثَهُ اللَّهُ مَعَهُمْ [ وَبَيْنَهُمْ ] ، وَالرَّابِعَةُ : لَا يَسْتُرُ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْمَعَادِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ فَضَالُ بْنُ جُبَيْرٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تین چیزوں کے بارے میں ، اگر میں قسم اٹھا لوں تو میں سچا ہوؤں گا ، اور اگر چوتھی بات کے بارے میں بھی قسم اٹھا لوں ، تو مجھے امید ہے کہ میں گناہ گار نہیں ہوؤں گا ( پہلی بات یہ ہے : ) جس شخص کا اسلام میں کوئی حصہ ہو ، اللہ تعالٰی نے اُسے اس شخص کی مانند نہیں کیا ہے ، جس کا اسلام میں کوئی حصہ نہ ہو ( دوسری بات یہ ہے : ) اللہ تعالیٰ جس بندے کو دنیا میں دوست بنا لے ، تو وہ آخرت میں اُس بندے کو کسی اور کے سپرد نہیں کرے گا ، ( تیسری بات یہ ہے : ) جب بندہ کسی قوم سے محبت رکھتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اسے اُن لوگوں کے ہمراہ ( اور اُن کے درمیان ) دوبارہ زندہ کرے گا ، ( چوتھی بات یہ ہے : ) کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں ، جس بندے کی پردہ پوشی کرتا ہے ، تو قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ اُس کی پردہ پوشی کرے گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس میں ایک راوی فضال بن جبیر ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 107
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 8023»