مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ حَدِّ الْقَذْفِ وَمَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ باب: زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد اور اس بارے میں وعید کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَضَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنَّهُ يَرِثُ أُمَّهُ ، وَتَرِثُهُ أُمُّهُ ، وَمَنْ قَفَاهَا بِهِ جُلِدَ ثَمَانِينَ ، وَمَنْ دَعَاهُ وَلَدَ الزِّنَا جُلِدَ ثَمَانِينَ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ طَرِيقِ ابْنِ إِسْحَاقَ قَالَ : وَذَكَرَ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبٍ ، فَإِنْ كَانَ هَذَا تَصْرِيحًا بِالسَّمَاعِ فَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَإِلَّا فَهِيَ عَنْعَنَةُ ابْنِ إِسْحَاقَ وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ بچہ اپنی ماں کا وارث بنے گا اور اس کی ماں اس کی وارث بنے گی اور جو شخص اس عورت پر زنا کا الزام لگائے گا اسے اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور جو شخص اس کے بیٹے کو زنا کے نتیجے میں پیدا ہونے کے طور پر بلائے گا اسے بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے ابن اسحاق کے حوالے سے نقل کی ہے ، اور یہ بات بیان کی ہے کہ عمرو بن شعیب نے یہ بات ذکر کی ہے اگر تو اس میں سماع کی صراحت ہے ، تو اس کے رجال ثقہ ہیں ورنہ یہ ابن اسحاق کی عنعنہ کے طور پر نقل کردہ روایت ہو گی اور وہ راوی مدلس ہے اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔