مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ حَدِّ الْقَذْفِ وَمَا فِيهِ مِنَ الْوَعِيدِ باب: زنا کا جھوٹا الزام لگانے کی حد اور اس بارے میں وعید کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْيُسْرِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لِعَائِشَةَ : " يَا عَائِشَةُ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَنْزَلَ عُذْرَكِ " قَالَتْ : بِحَمْدِ اللَّهِ لَا بِحَمْدِكَ . ¤ فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ عِنْدِ عَائِشَةَ فَبَعَثَ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُبَيٍّ فَضَرَبَهُ حَدَّيْنِ ، وَبَعَثَ إِلَى مِسْطَحٍ وَحَمْنَةَ فَضَرَبَهُمْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ يَحْيَى التَّيْمِيُّ وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤سیدنا ابوالیسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اے عائشہ ! بے شک اللہ تعالیٰ نے تمہاری بے گناہی کے بارے حکم نازل کر دیا ہے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرتی ہوں آپ کی تعریف نہیں کرتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس سے نکلے آپ نے عبداللہ بن ابی کو پیغام بھیج کر بلوایا اور اس کو دو حدوں کی سزا دی پھر آپ نے مسطح نامی صاحب اور حمنہ نامی خاتون کو پیغام بھیج کر بلوایا اور ان کی بھی پٹائی کروائی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن یحیی تیمی ہے ، اور وہ کذاب ہے ۔