مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِنْكَاهِ باب: منہ کی بو سونگھنے کا بیان
وَعَنْ أَبِي مَاجِدٍ الْحَنَفِيِّ قَالَ : جَاءَ رَجُلٌ بِابْنِ أَخٍ لَهُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ سَكْرَانَ ، فَقَالَ : إِنِّي وَجَدْتُ هَذَا سَكْرَانَ ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ : تَرْتِرُوهُ ، مَزْمِزُوهُ ، واسْتَنْكِهُوهُ . ¤ فَتُرْتِرَ وَمُزْمِزَ وَاسْتُنْكِهَ ، فَوُجِدَ مِنْهُ رِيحُ الشَّرَابِ ، فَأَمَرَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ إِلَى السِّجْنِ ، ثُمَّ أَخْرَجَهُ مِنَ الْغَدِ ، ثُمَّ أَمَرَ بِسَوْطٍ فَدُقَّتْ ثَمَرَتُهُ حَتَّى آضَتْ لَهُ مُخَفَّفَةً ثُمَّ قَالَ لِلْجَلَّادِ : اجْلِدْ وَأَرْجِعْ يَدَكَ ، وَأَعْطِ كُلَّ عُضْوٍ حَقَّهُ ، فَضَرَبَهُ ضَرْبًا غَيْرَ مُبَرِّحٍ أَوْجَعَهُ ، وَجَعَلَهُ فِي قَبَاءٍ وَسَرَاوِيلَ أَوْ قَمِيصٍ وَسَرَاوِيلَ . . . . فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي حَدِّ السَّرِقَةِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو مَاجِدٍ ضَعِيفٌ . ¤ابوماجد حنفی بیان کرتے ہیں : ایک شخص اپنے بھتیجے کو لے کر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا وہ بھتیجا نشے کی حالت میں تھا اس شخص نے بتایا میں نے اسے نشے کے عالم میں پایا ہے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اسے ہلاؤ جلاؤ اسے جھنجوڑو اور اسے سونگھو لوگوں نے اسے ہلایا جلایا اور اس کو سونگھا تو اس میں سے شراب کی بو آئی سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اس لڑکے بارے میں حکم دیا کہ اسے قید کر دیا جائے اگلے دن اسے باہر نکالا گیا پھر سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے حکم دیا کہ ایک چھڑی تیار کی جائے اس کا پھل اتار لیا گیا یہاں تک کہ وہ صاف ہو گئی ، پھر انہوں نے جلاد سے کہا: تم کوڑے لگاؤ اور اپنے ہاتھ کو کھینچنا اور ہر عضو کو اس کا حق دینا تو اس نے اسے ایسے ضرب لگائی کہ جو تکلیف دہ ہو لیکن نشان نہ ڈالے اور یہ سزا اس لڑکے کو لباس میں دی گئی اس نے قبا اور شلوار پہنی ہوئی تھی یا قمیص یا شلوار پہنی ہوئی تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو اس سے پہلے چوری کی حد سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور ابوماجد نامی راوی ضعیف ہے ۔