مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السَّرِقَةِ وَمَا لَا قَطْعَ فِيهِ باب: چوری کے بارے میں جو کچھ منقول ہے، اور کن صورتوں میں ( ہاتھ ) نہیں کاٹا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 10648
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَطَعَ فِي مِجَنٍّ ثَمَنُهُ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ غَيْرَ قَوْلِهِ : خَمْسَةُ دَرَاهِمَ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ أَبُو وَاقِدٍ الصَّغِيرُ ، قَالَ أَحْمَدُ : مَا أَرَى بِهِ بَأْسًا ، وَضَعَّفَهُ الْجُمْهُورُ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ڈھال ( چوری کرنے پر چور کا ہاتھ ) کٹوا دیا تھا ، جس کی قیمت پانچ درہم تھی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل نہیں کیے ہیں : ” پانچ درہم تھی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابوواقد صغیر ہے ۔ امام أحمد کہتے ہیں : میں اس میں کوئی حرج نہیں سمجھتا جمہور نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔