مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُخَنَّثِينَ باب: ہیجڑوں کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّ مُخَنَّثًا أُتِيَ بِهِ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخْضُوبَ الْيَدَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ ، فَجَعَلَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَخْفِقُونَهُ بِنِعَالِهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " احْذَرُوا هَذَا وَأَصْحَابَهُ عَلَى نِسَائِكُمْ " فَقَالُوا : أَفَلَا نَقْتُلُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " لَا ، إِنِّي نُهِيتُ عَنْ قَتْلِ الْمُصَلِّينَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْخَصِيبُ بْنُ جَحْدَرٍ وَهُوَ كَذَّابٌ . قُلْتُ : وَفِي كِتَابِ الْأَدَبِ أَحَادِيثُ مِنْ هَذَا الْبَابِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک ہیجڑے کو لایا گیا جس نے دونوں ہاتھوں اور دونوں پاؤں پر مہندی لگائی ہوئی تھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے اسے جوتوں کے ذریعے مارنا شروع کیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اسے اور اس طرح کے دیگر لوگوں کو اپنی خواتین کے پاس جانے سے روکو لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا ہم اسے قتل نہ کر دیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی نہیں مجھے نمازیوں کو قتل کرنے سے منع کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی خصیب بن جحدر ہے اور وہ کذاب ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں کتاب الادب میں اس موضوع سے متعلق کچھ احادیث مذکور ہیں ۔