حدیث نمبر: 10610
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ : جَاءَ مَاعِزُ بْنُ مَالِكٍ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي قَدْ زَنَيْتُ ، فَأَعْرَضَ بِوَجْهِهِ ، ثُمَّ جَاءَهُ مِنْ قِبَلِ وَجْهِهِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الثَّالِثَةَ فَأَعْرَضَ عَنْهُ ، ثُمَّ جَاءَهُ الرَّابِعَةَ فَلَمَّا قَالَ لَهُ ذَلِكَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَصْحَابِهِ : " قُومُوا إِلَى صَاحِبِكُمْ ، فَإِنْ كَانَ صَحِيحًا فَارْجُمُوهُ " . ¤ فَسُئِلَ عَنْهُ فَوُجِدَ صَحِيحًا فَرُجِمَ ، فَلَمَّا أَصَابَتْهُ الْحِجَارَةُ حَاضِرَهُمْ ، وَتَلَقَّاهُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِلَحْيِ جَمَلٍ فَضَرَبَهُ بِهِ فَقَتَلَهُ ، فَقَالَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : إِلَى النَّارِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " كَلَّا إِنَّهُ قَدْ تَابَ تَوْبَةً لَوْ تَابَهَا أُمَّةٌ مِنَ الْأُمَمِ لَقُبِلَ مِنْهُمْ " . ¤ قُلْتُ : لِسَمُرَةَ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ سِيَاقِهِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ صَفْوَانَ بْنِ الْمُغَلِّسِ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ماعز بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے زنا کیا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیر لیا پھر وہ دوسری طرف سے آپ کے پاس آئے تو آپ نے ان سے منہ پھیر لیا پھر وہ تیسری طرف سے آئے تو آپ نے ان کی طرف سے منہ پھیر لیا جب وہ چوتھی مرتبہ آپ کے پاس آئے جب انہوں نے یہ بات کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اصحاب سے فرمایا اپنے ساتھی کے پاس اٹھ کے جاؤ اگر یہ ٹھیک ہے تو اسے سنگسار کر دو اس کے بارے میں دریافت کیا گیا تو پتہ چلا کہ وہ صحیح ہے ( یعنی پاگل نہیں ہے ) تو اسے سنگسار کر دیا گیا جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگ کھڑا ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب اونٹ کی ہڈی لے کے اس کے سامنے آئے وہ انہوں نے اسے ماری تو وہ مر گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب نے فرمایا یہ جہنم میں جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہرگز نہیں اس نے ایسی توبہ کی ہے کہ اگر ایک پوری امت اتنی توبہ کرتی تو ان کی طرف سے وہ قبول ہو جاتی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے لیکن وہ اس طرح آپ کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد صفوان بن مغلظ سے نقل کی ہے میں ان سے واقف نہیں ہوں اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10610
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف