حدیث نمبر: 10567
وَعَنْ أَبِي مَطَرٍ قَالَ : رَأَيْتُ عَلِيًّا أُتِيَ بِرَجُلٍ فَقَالُوا : إِنَّهُ قَدْ سَرَقَ جَمَلًا ، فَقَالَ : مَا أَرَاكَ سَرَقْتَ ؟ قَالَ : بَلَى ، قَالَ : فَلَعَلَّهُ شُبِّهَ لَكَ ؟ قَالَ : بَلَى قَدْ سَرَقْتُ ، قَالَ : اذْهَبْ بِهِ يَا قُنْبُرُ ، فَشُدَّ أَصَابِعَهُ ، وَأَوْقِدِ النَّارَ وَادْعُ الْجَزَّارَ يَقْطَعْهُ ، ثُمَّ انْتَظِرْ حَتَّى أَجِيءَ لَكَ ، قَالَ : فَلَمَّا جَاءَ قَالَ لَهُ : سَرَقْتَ ؟ قَالَ : لَا . فَتَرَكَهُ . ¤ قَالُوا لَهُ : يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ ، لِمَ تَرَكْتَهُ ، وَقَدْ أَقَرَّ لَكَ ؟ قَالَ : أَخَذْتُهُ بِقَوْلِهِ وَأَتْرُكُهُ بِقَوْلِهِ ، ثُمَّ قَالَ عَلِيٌّ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِرَجُلٍ قَدْ سَرَقَ فَأَمَرَ بِقَطْعِهِ ، ثُمَّ بَكَى فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَلِمَ تَبْكِي ؟ قَالَ : " فَكَيْفَ لَا أَبْكِي ، وَأُمَّتِي تُقْطَعُ بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ " . ¤ قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَلَا عَفَوْتَ عَنْهُ ؟ قَالَ : " ذَاكَ سُلْطَانُ سُوءٍ الَّذِي يَعْفُو عَنِ الْحُدُودِ ، وَلَكِنْ تَعَافَوْا بَيْنَكُمْ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى . وَأَبُو مَطَرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ وَلَكِنَّ الرَّاوِيَ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین

ابومطر بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا ان کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ۔ لوگوں نے بتایا : اس نے ایک اونٹ چوری کیا ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تمہارے بارے میں میری یہ رائے نہیں ہے کہ تم نے چوری کی ہو گی ؟ اس نے کہا: جی ہاں ( میں نے چوری کی ہے ) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ہو سکتا ہے تمہیں کوئی شبہ لاحق ہو گیا ہو ۔ اس نے کہا: جی نہیں ! میں نے چوری کی ہے ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے قنبر ! تم اسے لے جاؤ اور اس کی انگلیاں باندھ دو اور آگ جلا دو اور قصائی کو بلا لو ، جو اس کو کاٹ دے پھر تم انتظار کرنا ، جب تک میں تمہارے پاس نہیں آ جاتا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ آئے ، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے دریافت کیا : کیا تم نے چوری کی ہے ؟ تو اس نے کہا: جی نہیں ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے چھوڑ دیا ۔ لوگوں نے ان سے کہا: اے امیر المؤمنین ! آپ نے اسے کیوں چھوڑ دیا ہے ؟ جبکہ وہ آپ کے سامنے اقرار کر چکا تھا ۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں نے اس کے قول کی بنیاد پر اسے پکڑا تھا ، اور اس کے قول کی بنیاد پر اسے چھوڑ دیا ہے ، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص کو لایا گیا ، جس نے چوری کی تھی ۔ آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا ، پھر آپ رو پڑے ۔ عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! آپ کیوں رو رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں کیوں نہ روؤں ، جبکہ میری امت کے ایک فرد ( کے ہاتھ ) کو تمہارے درمیان کاٹا جا رہا ہے ۔ لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے اس سے درگزر کیوں نہیں کیا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ایسا شخص برا حکمران ہو گا ، جو حدود کے معاملے میں درگزر کرے تاہم تم آپس میں اسے معاف کر دیا کرو “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ابومطر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اور اس سے روایت کرنے والے شخص سے بھی میں واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10567
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه أبو يعلى فى المسند (328)»