مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الحدود والديات— حدود اور دیات کے بارے میں روایات
بَابُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ باب: مسلمان کا خون تین وجہ میں سے کسی وجہ سے حلال ہوتا ہے
حدیث نمبر: 10520
وَعَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : ¤ " لَا يَحِلُّ دَمُ الْمُؤْمِنِ إِلَّا فِي إِحْدَى ثَلَاثٍ : النَّفْسُ بِالنَّفْسِ ، وَالثَّيِّبُ الزَّانِي ، وَالْمُرْتَدُّ عَنِ الْإِيمَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَقَالَ : رَدِيءُ الْحِفْظِ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَتْ أَحَادِيثُ فِي كِتَابِ الْإِيمَانِ مِنْ نَحْوِ هَذَا . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” مومن کا خون تین میں سے کسی ایک وجہ سے حلال ہو سکتا ہے جان کے بدلے میں جان ، شادی شدہ زانی اور ایمان کو چھوڑ کر مرتد ہونے والا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایوب بن سوید ہے ، اور وہ متروک ہے اسے ابن حبان نے سے ثقہ قرار دیا ہے وہ کہتے ہیں یہ خراب حافظے کا مالک ہے ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس نوعیت کی کچھ احادیث کتاب الایمان میں پہلے گزر چکی ہیں ۔