حدیث نمبر: 10509
عَنْ بِشْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ - وَكَانَ شَيْخًا قَدِيمًا - قَالَ : كُنَّا مَعَ طَاوُسٍ عِنْدَ الْمَقَامِ ، فَسَمِعْنَا ضَوْضَاءَ ، فَقَالَ : مَا هَذَا ؟ فَقِيلَ : قَوْمٌ أَخَذَهُمُ ابْنُ هِشَامٍ فِي سَبَبٍ فَطَوَّفَهُمْ . ¤ فَسَمِعْتُ طَاوُسًا يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : ¤ " مَا مِنْ أَحَدٍ يُحْدِثُ فِي هَذِهِ الْأُمَّةِ حَدَثًا لَمْ يَكُنْ ، فَيَمُوتُ حَتَّى يُصِيبَهُ ذَلِكَ " . ¤ فَأَنَا رَأَيْتُ ابْنَ هِشَامٍ حِينَ عُزِلَ وَوُلِّيَ عُمَّالُ الْوَلِيدِ فَطَوَّفُوهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ سَلَمَةَ بْنِ سِيسٍ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

بشر بن عبیداللہ ، جو ایک پرانے بزرگ ہیں وہ بیان کرتے ہیں : ہم مقام ابراہیم کے پاس طاؤس کے ساتھ موجود تھے ہم نے شور و غوغا سنا انہوں نے دریافت کیا : کیا ہوا ہے ہم نے کہا: کچھ لوگوں کو ابن ہشام نے کسی جرم کی وجہ سے پکڑا تھا ، اور اب وہ ان کو چکر لگوا رہا ہے ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے طاؤس کو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو بھی شخص اس امت میں کوئی نئی چیز پیدا کرے گا ، جو پہلے نہ ہوئی ہو ، تو وہ اس وقت تک نہیں مرے گا ، جب تک وہ خود اس کا سامنا نہیں کرے گا “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے ابن ہشام کو دیکھا کہ جب اسے معزول کیا گیا اور ولید کا مقرر کردہ دوسرا حکمران آیا تو اس ( حکمران ) نے اسے بھی چکر لگوائے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف سلمہ سیس کا معاملہ مختلف ہے اسے ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الحدود والديات / حدیث: 10509
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير “ (10991)»