مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الطهارة— طہارت کے بارے میں روایات
بَابُ الِاسْتِجْمَارِ بِالْحَجَرِ . باب: پتھر کے ذریعے استنجاء کرنا
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : قَالَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ لِعَبْدِ اللَّهِ : " إِنِّي لَأَحْسَبُ صَاحِبَكُمْ قَدْ عَلَّمَكُمْ كُلَّ شَيْءٍ ، حَتَّى عَلَّمَكُمْ كَيْفَ تَأْتُونَ الْخَلَاءَ ؟ قَالَ : إِنْ كُنْتَ مُسْتَهْزِئًا فَقَدْ عَلَّمَنَا أَنْ لَا نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ بِفُرُوجِنَا ، وَأَحْسَبُهُ قَالَ : وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِأَيْمَانِنَا ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالرَّجِيعِ ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِالْعَظْمِ ، وَلَا نَسْتَنْجِيَ بِدُونِ ثَلَاثَةِ أَحْجَارٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤علقمہ بیان کرتے ہیں : مشرکین سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے یوں لگتا ہے کہ آپ کے آقا نے آپ لوگوں کو ہر چیز کی تعلیم دی ہے ، یہاں تک کہ انہوں نے آپ لوگوں کو یہ بھی تعلیم دی ہے کہ آپ نے قضاء حاجت کے لیے کیسے جاتا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر تو تم مذاق اڑانا چاہ رہے ہو ( تو میں تمہیں یہ بتا دیتا ہوں ) کہ انہوں نے ہمیں اس بات کی تعلیم دی ہے ( کہ قضائے حاجت کرتے ہوئے ) ہماری شرمگاہ کا رخ قبلہ کی طرف نہیں ہونا چاہیے ( راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، انہوں نے یہ بھی بیان کیا تھا : ) کہ ہم اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجاء نہ کریں ، ہم مینگنی کے ذریعے استنجاء نہ کریں ، ہم ہڈی کے ذریعے استنجاء نہ کریں ، اور ہم تین پتھروں سے کم کے ذریعے استنجاء نہ کریں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔