حدیث نمبر: 10441
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ أَنَّ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ ، قَالَ لِسَعِيدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ : مَا لَكَ لَا تَخْرُجُ مَعَ عَلِيٍّ ؟ أَمَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ مَا قَالَ فِيهِ ؟ قَالَ : ¤ " يَخْرُجُ قَوْمٌ مِنْ أُمَّتِي يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ مُرُوقَ السَّهْمِ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، يَقْتُلُهُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ " قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ . قَالَ : إِي وَاللَّهِ ، لَقَدْ سَمِعْتُهُ ، وَلَكِنِّي أَحْبَبْتُ الْعُزْلَةَ حَتَّى أَجِدَ سَيْفًا يَقْطَعُ الْكَافِرَ ، وَيَنْبُو عَنِ الْمُؤْمِنِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ أَبِي عَائِشَةَ ، ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَذَكَرَ لَهُ هَذَا الْحَدِيثَ ، وَقَالَ : هَذَا حَدِيثٌ مُنْكَرٌ . ¤
محمد محی الدین

عامر بن سعد بن ابی وقاص بیان کرتے ہیں : سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ نہیں نکلتے ہیں ؟ کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ان کے بارے میں ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ” میری امت میں ایک قوم نکلے گی جو دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے ، اور علی بن ابوطالب ان کے ساتھ جنگ کرے گا ( یا ان کو قتل کرے گا ) “ ۔ آپ نے یہ بات تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، تو سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: جی ہاں اللہ کی قسم میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے لیکن مجھے یہ بات پسند ہے کہ میں اس وقت تک الگ تھلگ رہوں جب تک میں یہ صورت حال نہیں پاتا کہ تلوار صرف کافر کو کاٹے گی اور مومن سے الگ رہے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عمر بن ابوعائشہ ہے ذہبی نے اس کا ذکر میزان الاعتدال میں کیا ہے ، اور انہوں نے اس کے حوالے سے
یہ روایت ذکر کی ہے ، اور یہ بات کہی ہے کہ یہ حدیث منکر ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10441
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ منکر