حدیث نمبر: 10430
وَعَنْ طَلْقِ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَنَا : ¤ " يُوشِكُ أَنْ يَجِيءَ قَوْمٌ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ لَا يُجَاوِزُ تَرَاقِيَهُمْ ، يَمْرُقُونَ مِنَ الدِّينِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ ، طُوبَى لِمَنْ قَتَلَهُمْ ، وَطُوبَى لِمَنْ قَتَلُوهُ " . ¤ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَيَّ ، فَقَالَ : " إِنَّهُمْ سَيَخْرُجُونَ بِأَرْضِ قَوْمِكَ يَا يَمَامِيُّ يُقَاتِلُونَ بَيْنَ الْأَنْهَارِ " . قُلْتُ : بِأَبِي وَأُمِّي مَا بِهَا مِنْ أَنْهَارٍ . قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقِ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ عَنْ أَبِيهِ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُمَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے آپ نے ہم سے ارشاد فرمایا : ” عنقریب کچھ لوگ آئیں گے ، جو قرآن پڑھیں گے ، اور وہ ان کے حلق سے آگے نہیں جائے گا وہ دین سے یوں نکل جائیں گے ، جس طرح تیر نشانے کے پار ہو جاتا ہے اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جو انہیں قتل کرے گا اور اس شخص کے لئے بھی مبارکباد ہے ، جسے وہ قتل کریں گے “ ۔ راوی کہتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے ، اور آپ نے ارشاد فرمایا : ” وہ لوگ عنقریب تمہاری قوم کی سرزمین سے نکلیں گے اے یمامی اور وہ لوگ نہروں کے درمیان جنگ کریں گے میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں وہاں تو نہریں نہیں ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہاں عنقریب ہوں گی “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے علی بن یحیی بن اسماعیل کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ، اور میں ان دونوں سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10430
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (8260)»