حدیث نمبر: 10429
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ قَالَ : ¤ أَتَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى وَهُوَ مَحْجُوبُ الْبَصَرِ ، فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قُلْتُ : أَنَا سَعِيدُ بْنُ جُمْهَانَ ، قَالَ : مَا فَعَلَ وَالِدُكَ ؟ قُلْتُ : قَتَلَتْهُ الْأَزَارِقَةُ ، قَالَ : لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ ، لَعَنَ اللَّهُ الْأَزَارِقَةَ ، ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " كِلَابُ النَّارِ " . قُلْتُ : الْأَزَارِقَةُ وَحْدَهُمْ أَوِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا ؟ قَالَ : بَلِ الْخَوَارِجُ كُلُّهَا . ¤ قُلْتُ : فَإِنَّ السُّلْطَانَ يَظْلِمُ النَّاسَ ، وَيَفْعَلُ بِهِمْ ، وَيَفْعَلُ بِهِمْ ، وَيَفْعَلُ ؟ فَتَنَاوَلَ بِيَدِي فَغَمَزَهَا غَمْزَةً شَدِيدَةً ، ثُمَّ قَالَ : يَا ابْنَ جُمْهَانَ ، عَلَيْكَ بِالسَّوَادِ الْأَعْظَمِ ، فَإِنْ كَانَ السُّلْطَانُ يَسْمَعُ مِنْكَ فَائْتِهِ فِي بَيْتِهِ فَأَخْبِرْهُ بِمَا تَعْلَمُ ، فَإِنْ قَبِلَ مِنْكَ وَإِلَّا فَدَعْهُ ، فَلَسْتَ بِأَعْلَمَ مِنْهُ . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ مِنْهُ : " الْخَوَارِجُ كِلَابُ النَّارِ " . فَقَطْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ وَأَحْمَدُ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ أَحْمَدَ فِي كَيْفِيَّةِ النُّصْحِ لِلْأَئِمَةِ فِي الْخِلَافَةِ بِأَسَانِيدَ ، ، وَأَحَدُهَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن جمہان بیان کرتے ہیں : میں سیدنا عبداللہ بن ابوعوفی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا ان کی بینائی رخصت ہو چکی تھی میں نے انہیں سلام کیا ۔ انہوں نے دریافت کیا : تم کون ہو میں نے جواب دیا : میں سعید بن جمہان ہوں ۔ انہوں نے دریافت کیا : تمہارے والد کا کیا حال ہے میں نے بتایا : ازارقہ نے انہیں قتل کر دیا ہے ۔ انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے اللہ تعالیٰ ازارقہ پر لعنت کرے پھر انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” یہ جہنم کے کتے ہیں “ ۔ راوی کہتے ہیں : میں نے دریافت کیا : صرف ازارقہ یہ ہیں یا تمام خوارج ایسے ہیں ؟ انہوں نے فرمایا : بلکہ تمام خوارج ( جہنم کے کتے ہیں ) ۔ میں نے کہا: حاکم وقت اگر لوگوں پر ظلم کرتا ہے ، اور ان کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے ( تو کیا وہ بھی اس میں شامل ہو گا ؟ ) تو انہوں نے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھایا اور پھر زور سے ٹہوکہ دے کر پھر فرمایا : اے ابن جمہان تم پر سواد اعظم کے ساتھ رہنا لازم ہے اگر سلطان تمہاری بات سنتا ہے ، تو تم اس کے گھر میں اس کے پاس جاؤ اور اپنے علم کے مطابق اسے بتا دو اگر وہ تمہاری بات قبول کر لیتا ہے ، تو ٹھیک ہے ورنہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو تم اس سے زیادہ علم رکھنے والے نہیں ہو گے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے اس روایت میں سے صرف خوارج کے جہنم کے کتے ہونے والا حصہ نقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اور امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔ اس سے پہلے امام أحمد کی نقل کردہ ایک حدیث گزر چکی ہے ، جو خلافت کے بارے میں حکمرانوں کی خیرخواہی کی کیفیت کے بارے میں ہے یہ مختلف اسانید کے ساتھ نقل ہوئی ہے جن میں سے ایک سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب قتال أهل البغي / حدیث: 10429
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن