مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
حدیث نمبر: 10426
وَفِي رِوَايَةٍ : فَتَكَلَّمَ الْقَوْمُ ، فَذَكَرُوا الْأَمْرَ بِالْمَعْرُوفِ ، وَالنَّهْيَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَهُوَ سَاكِتٌ يَسْمَعُ مِنْهُمْ ، ثُمَّ قَالَ : لَمْ أَرَ كَالْيَوْمِ قَطُّ قَوْمًا أَحَقَّ بِالنَّجَاةِ إِنْ كَانُوا صَادِقِينَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مِنْ طَرِيقَيْنِ فِي إِحْدَاهُمَا : لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَفِي الْأُخْرَى عَلِيُّ بْنُ سُلَيْمَانَ الْكَلْبِيُّ ، وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : لوگوں نے بات چیت شروع کی انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا ذکر کیا ، تو سیدنا جندب رضی اللہ عنہ خاموش بیٹھ کر ان کی باتیں سنتے رہے پھر انہوں نے ارشاد فرمایا : میں نے آج کے دن کی طرح کبھی کوئی قوم نہیں دیکھی جو نجات کی زیادہ حق دار ہو اگر یہ لوگ سچے ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے دو حوالوں سے نقل کی ہے جن میں سے ایک میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے ، اور وہ مدلس ہے جبکہ دوسری میں ایک راوی علی بن سلیمان کلبی ہے ، اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔ ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ۔