مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب قتال أهل البغي— باغیوں سے جنگ کے بارے میں روایات
باب باب: خوارج کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ صَفْوَانِ بْنِ مُحْرِزٍ ، عَنْ جُنْدَبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : ¤ أَنَّهُ مَرَّ بِقَوْمٍ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ ، فَقَالَ : لَا يَغُرَّنَّكَ هَؤُلَاءِ ، إِنَّهُمْ يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ الْيَوْمَ ، وَيَتَجَالَدُونَ بِالسُّيُوفِ غَدًا ، ثُمَّ قَالَ : ائْتِنِي بِنَفَرٍ مِنْ قُرَّاءِ الْقُرْآنِ ، وَلْيَكُونُوا شُيُوخًا . فَأَتَيْتُهُ بِنَافِعِ بْنِ الْأَزْرَقِ ، وَأَتَيْتُهُ بِمِرْدَاسِ بْنِ بِلَالٍ ، وَبِنَفَرٍ مَعَهُمَا ، سِتَّةٌ أَوْ ثَمَانِيَةٌ ، فَلَمَّا أَنْ دَخَلْنَا عَلَى جُنْدَبٍ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : ¤ " مَثَلُ الَّذِي يُعَلِّمُ النَّاسَ الْخَيْرَ وَيَنْسَى نَفْسَهُ كَمَثَلِ الْمِصْبَاحِ الَّذِي يُضِيءُ لِلنَّاسِ وَيَحْرِقُ نَفْسَهُ ، وَمَنْ سَمَّعَ النَّاسَ بِعَمَلِهِ سَمَّعَ اللَّهُ بِهِ ، وَاعْلَمْ أَنَّ أَوَّلَ مَا يُنْتِنُ مِنْ أَحَدِكُمْ إِذَا مَاتَ بَطْنُهُ ، فَلَا يُدْخِلْ بَطْنَهُ إِلَّا طَيِّبًا ، وَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ لَا يَحُولَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجَنَّةِ مِلْءُ كَفٍّ مِنْ دَمٍ فَلْيَفْعَلْ " . ¤صفوان بن محرز نے سیدنا جندب بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے ان کا گزر کچھ لوگوں کے پاس سے ہوا جو قرآن پڑھ رہے تھے ، تو انہوں نے فرمایا : یہ لوگ تمہیں غلط فہمی کا شکار نہ کریں یہ لوگ آج قرآن پڑھ رہے ہیں ، اور کل تلواریں لے کر ایک دوسرے کے مد مقابل آ جائیں گے پھر انہوں نے فرمایا : میرے پاس قرآن پڑھنے والے کچھ لوگوں کو لے کر آؤ اور وہ بڑی عمر کے لوگ ہونے چاہیں راوی کہتے ہیں : تو میں نافع بن ازرق کو ان کے پاس لے کر آیا اور مرداس بن بلال کو ان کے پاس لے کر آیا اور ان دونوں کے ساتھ کچھ اور لوگوں کو لے کر آیا جو چھ یا آٹھ افراد تھے جب ہم سیدنا جندب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص لوگوں کو بھلائی کی تعلیم دیتا ہے ، اور اپنے آپ کو بھول جاتا ہے اس کی مثال چراغ کی مانند ہے جو لوگوں کے لئے روشنی کرتا ہے ، اور اپنے آپ کو جلا دیتا ہے ، اور جو شخص اپنے عمل کے حوالے سے دکھاوا کرتا ہے ، تو اللہ تعالیٰ اس کے دکھاوے کو ظاہر کر دے گا ، تم یہ بات جان لو کہ جب کوئی شخص مر جاتا ہے ، تو سب سے پہلے اس کے وجود میں سے پیٹ بدبودار ہوتا ہے ، تو آدمی کو اپنے پیٹ میں صرف پاکیزہ چیز داخل کرنی چاہیے تم میں سے جو شخص یہ استطاعت رکھتا ہو کہ اس کے اور جنت کے درمیان مٹھی بھر خون بھی رکاوٹ نہ بنے تو اسے ایسا کرنا چاہیے “ ۔