حدیث نمبر: 10361
عَنْ خَالِدِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ قَالَ : قَدِمَتْ بَكْرُ بْنُ وَائِلٍ مَكَّةَ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِأَبِي بَكْرٍ : " ائْتِهِمْ فَاعْرِضْ عَلَيْهِمْ " . فَأَتَاهُمْ ، فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ فَقَالُوا : بَنُو ذُهَلِ بْنِ ثَعْلَبَةَ ، فَقَالَ : لَسْتُ إِيَّاكُمْ أُرِيدُ ، أَنْتُمُ الْأَذْنَابُ ، فَقَامَ إِلَيْهِ دَغْفَلٌ ، فَقَالَ : مَنْ أَنْتَ ؟ قَالَ : رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ ، قَالَ : أَمِنْ بَنِي هَاشِمٍ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَمِنْ بَنِي أُمَيَّةَ ؟ قَالَ : لَا . قَالَ : فَأَنْتُمْ مِنَ الْأَذْنَابِ . ¤ ثُمَّ عَادَ إِلَيْهِمْ ثَانِيَةً فَقَالَ : مَنِ الْقَوْمُ ؟ فَقَالُوا : بَنُو ذُهَلِ بْنِ شَيْبَانَ ، قَالَ : فَعَرَضَ عَلَيْهِمُ الْإِسْلَامَ ، قَالُوا : حَتَّى يَجِيءَ شَيْخُنَا فُلَانٌ - قَالَ خَلَّادٌ : أَحْسَبُهُ قَالَ : الْمُثَنَّى بْنُ خَارِجَةَ - فَلَمَّا جَاءَ شَيْخُهُمْ عَرَضَ عَلَيْهِمْ أَبُو بَكْرٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - قَالَ : إِنَّ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْفُرْسِ حَرْبًا ، فَإِذَا فَرَغْنَا مِمَّا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ عُدْنَا فَنَظَرْنَا ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : أَرَأَيْتَ إِنْ غَلَبْتُمُوهُمْ أَتَتِّبِعُنَا عَلَى أَمْرِنَا ؟ قَالَ : لَا نَشْتَرِطُ لَكَ هَذَا عَلَيْنَا ، وَلَكِنْ إِذَا فَرَغْنَا فِيمَا بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ عُدْنَا فَنَظَرْنَا فِي مَا تَقُولُ . ¤ فَلَمَّا الْتَقَوْا يَوْمَ ذِي قَارٍ هُمْ وَالْفُرْسُ ، قَالَ شَيْخُهُمْ : مَا اسْمُ الرَّجُلِ الَّذِي دَعَاكُمْ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالُوا : مُحَمَّدٌ ، قَالُوا : هُوَ شِعَارُكُمْ . فَنُصِرُوا عَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " بِي نُصِرُوا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ خَلَّادِ بْنِ عِيسَى ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین

خالد بن سعید بن العاص نے اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کیا ہے میں مکہ میں بکر بن وائل کے پاس آیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے فرمایا تم ان کے پاس جاؤ اور انہیں اسلام کی پیشکش کرو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے انہوں نے دریافت کیا : تمہارا تعلق کس سے ہے ۔ انہوں نے بتایا : بنوزہل بن ثعلبہ سے تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں تم لوگوں کے پاس نہیں آنا چاہ رہا تھا تم لوگ دموں کی مانند ہو پھر دغفل ان کے سامنے کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : تم کون ہو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: قریش سے تعلق رکھنے والا ایک شخص اس نے دریافت کیا : کیا بنو ہاشم سے تعلق رکھتے ہو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا جی نہیں اس نے دریافت کیا : کیا بنوامیہ سے ہو انہوں نے جواب دیا جی نہیں ، تو اس نے کہا: پھر تم لوگ بھی دموں میں سے ہو پھر وہ دوسری مرتبہ ان کے سامنے گئے ، اور دریافت کیا : تم لوگ کون ہو انہوں نے بتایا : بنوزہل بن شیبان راوی کہتے ہیں : تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسلام کی پیشکش کی ان لوگوں نے کہا: پہلے ہمارا فلاں بوڑھا آ جائے خلاد نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے میرا خیال ہے ان لوگوں نے مثنی بن خارجہ کا نام ذکر کیا تھا جب ان کا بوڑھا آیا تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے سامنے اسلام کی پیشکش کی اس نے کہا: ہمارے اور ایرانیوں کے درمیان جنگ چل رہی ہے جب ہم اپنے اور ان کے درمیان اس جنگ سے فارغ ہو جائیں گے ، تو واپس آئیں گے ، تو پھر آپ کی کہی ہوئی بات کا جائزہ لیں گے ۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا اس بارے میں تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر تم ان پر غالب آ گئے ، تو کیا تم ہمارے معاملے کے بارے میں ہماری پیروی کر لو گے اس نے کہا: ہم یہ بات طے نہیں کرتے ہیں لیکن جب ہم فارغ ہو گئے جو چیز ہمارے اور ان کے درمیان چل رہی ہے ، تو پھر ہم واپس آ کر آپ کی کہی ہوئی بات کا جائزہ لیں گے جب ذی قار کے دن ان کا اور ایرانیوں کا مقابلہ ہوا تو ان کے بوڑھے نے کہا: ان صاحب کا نام کیا تھا جنہوں نے تمہیں اللہ کی طرف دعوت دی تھی تو لوگوں نے بتایا : سیدنا محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) ان لوگوں نے کہا: یہ تمہارا شعار ہے پھر دشمن کے خلاف ان لوگوں کی مدد ہو گئی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری وجہ سے ان کی مدد ہوئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، اور صحیح کے رجال ہیں صرف خلاد بن عیسیٰ کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب المغازي والسير / حدیث: 10361
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5520)»